روحان احمد
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر غزہ کے لیے بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔
بدھ کے روز پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو کر ان مقاصد کے حصول اور فلسطینی بہنوں اور بھائیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرے گا۔
جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی باضابطہ تقریب میں شرکت کی جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شامل تھے۔
پاکستان کے علاوہ مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب او قطر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ البانیہ، ارجنٹینا، ہنگری، اسرائیل، قزاقستان، پیراگوئے اور ازبکستان بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی تصدیق کر چکے ہیں۔
گزشتہ روز پاکستان سمیت مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکی، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’تمام ممالک بورڈ میں شمولیت کی دستاویزات پر اپنے قوانین کے تحت دستخط کریں گے۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے مطابق غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کو ممکن بنایا جا سکے گا۔
تاہم پاکستان کے فیصلے پر ملک میں بڑی سطح پر تنقید بھی دیکھی گئی۔ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ ’بورڈ آف پیس کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرنا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ اور نیتن یاہو کی صورت میں کسی قسم کا کوئی امن بورڈ قبول نہیں۔‘
