نیا سال 2026ء
نیا سال 2026ء صرف ایک سال کا اختتام نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے دوسرے ربع کا آغاز بھی ہے۔ اسی اہم مرحلے پر پاکستان ڈیسک نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا ہے۔
ذرائع ابلاغ نے وقت کے ساتھ مسلسل ارتقا کیا ہے۔ منادی اور قاصدوں سے شروع ہونے والا خبر کا سفر چھاپہ خانے، ریڈیو اور ٹیلی وژن سے ہوتا ہوا انٹرنیٹ کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا تک پہنچا۔ اکیسویں صدی کے پہلے ربع میں ڈیجیٹل میڈیا نے تحریری، سمعی اور بصری صحافت کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کر دیا، اور اسی دور میں پاکستان ڈیسک نے اپنی شروعات کیں۔
اسی ارتقائی پس منظر میں پاکستان ڈیسک نے گزرے ہوئے صحافتی دور کا بطور کیس اسٹڈی گہرائی سے مطالعہ کیا اور اپنے ادارتی لائحۂ عمل کے تعین میں تین بنیادی اسالیب کے انتخاب کا فیصلہ کیا، تاکہ میڈیا کے بدلتے ہوئے منظر نامہ میں ذمہ دار، بامقصد اور قاری مرکوز صحافت کو فروغ دیا جا سکے۔
تیز رفتار زندگی اور خبر سب سے پہلے دینے کی دوڑ نے ادھورے حقائق اور سنسنی خیزی کو فروغ دیا۔ اس رجحان کے برعکس پاکستان ڈیسک نے متامل صحافت (Slow Journalism) کو اپنایا ہے، تاکہ مکمل تحقیق اور تمام پہلوؤں کے بعد خبر قارئین کے سامنے لائی جا سکے۔
آج معلومات کی بھرمار میں ضروری، ترجیحی اور عوامی اہمیت کے حامل موضوعات غیر ضروری اور ثانوی خبروں میں گم ہو گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی کثرت اور خبروں کی مشینی نقل نے صحافت کو تحقیق کے بجائے چربہ سازی (Churnalism) تک محدود کر دیا ہے۔ پاکستان ڈیسک نے اس صورتحال کے پیشِ نظر مصَفّا صحافت (Curated Journalism) کو بطور اسلوب اپنایا ہے، تاکہ قارئین تک وہ خبریں پہنچیں جو واقعی اہم، معتبر اور مفید ہوں۔
آزادیٔ اظہار ایک بنیادی حق ہے، مگر اس کا استعمال ذمہ داری، نیک نیتی اور خود احتسابی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اظہارِ رائے کا غیر ذمہ دارانہ استعمال نفرت، انتہاپسندی اور فسطائیت کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان ڈیسک آزادیٔ اظہار کو توازن، تکثیریت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بنانا چاہتا ہے۔
پاکستان ڈیسک اپنی بساط کے مطابق ذمہ دار، سنجیدہ اور بامقصد صحافت کے لیے مسلسل کوشاں رہے گا۔
امید ہے کہ نیا سال 2026ء اور اکیسویں صدی کے دوسرے ربع کا آغاز ہم سب کے لیے خیر، امن اور بہتری کا پیغام لے کر آئے
